MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

فرح نادر نے بتا دیا پاکستانی ڈرامہ ایکٹرز کو کتنے کا چیک ملتا ہے!

Farah Nadir، جو اپنے طویل اور کامیاب کیریئر میں "رقصِ بسمل"، "حنا کی خوشبو" اور "دلدل" جیسے کئی یادگار ڈراموں میں اپنی شاندار اداکاری کا لوہا منوا چکی ہیں، حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شریک ہوئیں۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستانی تفریحی صنعت کے اس مالیاتی پہلو پر کھل کر بات کی جس پر عموماً کم ہی لوگ بات کرتے ہیں—یعنی ڈراموں میں اداکاروں کی کمائی۔ فرح نادر نے اپنے اداکاری کی دنیا کا سفر کلاسک ڈرامے "خدا کی بستی" سے شروع کیا تھا، اور تب سے لے کر اب تک وہ پاکستانی ٹیلی ویژن کی سکرین کا ایک ایسا جانا پہچانا اور معتبر چہرہ ہیں ۔

عام آدمی اور ایکٹرز کی آمدنی میں زمین آسمان کا فرق!

فرح نادر نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ شوبز کی دنیا میں اداکاروں کی آمدنی دیگر کئی پیشوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ انہوں نے اس فرق کو ایک دلچسپ مثال کے ساتھ واضح کیا۔ ان کے مطابق، اگر ایک عام آدمی پورے مہینے کی کڑی محنت اور مشقت کے بعد بمشکل ایک لاکھ روپے کماتا ہے، تو ایک کامیاب اداکار شاید یہی ایک لاکھ روپے صرف دس دن کے اندر اپنے کھاتے میں ڈال سکتا ہے۔ یہ بات سن کر تو ہر اس شخص کو شدید جھٹکا لگا ہوگا جو صبح سے شام تک نوکری کرتا ہے اور پھر بھی مہینے کے آخر میں حساب پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لگتا ہے ہم سب نے غلط شعبہ چن لیا ہے! یہ اعداد و شمار واقعی عام شہریوں اور ہمارے ڈراموں کے ستاروں کی آمدنی کے درمیان وسیع خلیج کو نمایاں کرتے ہیں۔

لیڈ رولز، لگژری لائف کا راستہ!

بات صرف عام اداکاروں کی آمدنی تک محدود نہیں۔ فرح نے مزید انکشاف کیا کہ جو اداکار ڈراموں میں مرکزی یا 'لیڈ رولز' ادا کرتے ہیں، ان کی فیسیں تو اور بھی زیادہ حیران کن ہوتی ہیں۔ ایک نامور اور تجربہ کار اداکار یا اداکارہ جو کسی ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہو، وہ ایک سنگل ڈرامے کے لیے آرام سے 15 لاکھ سے 20 لاکھ روپے وصول کر سکتا ہے۔ اب آپ سوچیں کہ ایک سیزن میں اگر ایسے ایکٹرز دو سے تین ڈرامے بھی کر لیں، تو ان کی سالانہ آمدنی کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے! اور یہیں بات ختم نہیں ہوتی، کچھ انتہائی کامیاب پروجیکٹس اور انڈسٹری کے بہت بڑے ناموں کے لیے تو یہ معاوضہ 30 لاکھ سے 40 لاکھ روپے فی ڈرامہ تک بھی جا سکتا ہے۔ یہ رقم سن کر تو بڑے بڑے بزنس مین بھی انگشت بدنداں رہ جائیں۔

وقت پر ادائیگی نہ ہو تو ساری چمک پھیکی!

لیکن جہاں یہ چمک دمک اور پیسوں کی ریل پیل ہے، وہیں فرح نادر نے اس شعبے کا ایک اہم اور اکثر نظر انداز کیا جانے والا پہلو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تفریحی صنعت میں اتنی زیادہ کمائی کا فائدہ تب ہی ہے جب پروڈیوسرز اداکاروں کو ان کی ادائیگیاں وقت پر کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پیمنٹس میں دیر ہو جائے، تو بھلے ہی فیس کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، اداکاروں کو بھی مالی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فرح کے مطابق، اگر مالی معاملات طے شدہ شیڈول کے مطابق چلیں، یعنی پیسے وقت پر ملیں، تو شوبزنس واقعی ایک انتہائی منافع بخش اور فائدہ مند پیشہ ثابت ہوتا ہے۔ ورنہ تو، وہی کہاوت یاد آتی ہے، "دور کے ڈھول سہانے لگتے ہیں!"

تو اب آپ ہی بتائیں، کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ پاکستانی ڈراموں میں اپنا لک آزمانے کا ٹائم نہیں آ گیا؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔