بن ایفلیک کو AI دیکھ کر دل کا دورہ پڑ گیا تھا، پھر اسی ٹیکنالوجی کو اپنی فلم میں استعمال کر ڈالا!

ہالی ووڈ کے سپر اسٹار بن ایفلیک جو کہ اداکار، ہدایت کار اور پروڈیوسر ہیں، حال ہی میں لاس اینجلس میں بلومبرگ اسکرین ٹائم ایونٹ میں AI یعنی مصنوعی ذہانت کے بارے میں کھل کر بات کرتے نظر آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں AI فلم سازوں اور فنکاروں کے تخلیقی عمل میں مددگار ثابت ہو، نہ کہ انہیں بے کار کر دے۔ بھئی، صحیح بات ہے، ٹیکنالوجی کا مقصد یہی ہونا چاہیے۔
بن ایفلیک نے بتایا کہ جب انہوں نے اپنی بصری اثرات (visual-effects) کی کمپنی شروع کی اور گوگل اور اوپن اے آئی (OpenAI) کی ابتدائی AI ٹیکنالوجی کو قریب سے دیکھا، تو ان کی دلچسپی اس میں بڑھ گئی۔ مگر یہ دلچسپی فوراً خوف میں بدل گئی! ایفلیک نے بتایا، "پہلے تو مجھے ایک قسم کا دل کا دورہ پڑ گیا تھا۔ میں نے میٹ ڈیمن کو فون کیا اور کہا، یار، اگلے کچھ سالوں میں جتنی فلمیں کر سکتے ہو کر لو کیونکہ ہم تو گئے۔" یہ سن کر کون نہ گھبرائے بھلا؟
AI کا اخلاقی استعمال: ایفلیک کا اپنا فارمولا
اس ابتدائی گھبراہٹ کے بعد، ایفلیک نے سوچنا شروع کیا کہ AI کو کس طرح "اخلاقی طریقے سے" استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ لوگوں کو فلمیں بنانے میں مدد ملے، بجائے اس کے کہ انہیں باہر کر دیا جائے۔ ان کا حل تھا کہ اپنا ایک ڈیٹا سیٹ تیار کیا جائے۔ انہوں نے اس کے لیے پیسہ جمع کیا اور آٹھ مہینے تک فلم بندی کی ایک بڑی کلیکشن بنائی۔ اس فوٹیج کو انہوں نے موجودہ AI ماڈلز کو خاص فلم سازی کے کاموں کے لیے مزید تربیت دینے میں استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ عام AI ماڈلز بہت زیادہ فوٹیج سے رنگوں جیسے بنیادی تصورات سیکھتے ہیں، لیکن فلم سازی کی باریکیوں کو سمجھنے کے لیے انہیں پیشہ ورانہ طور پر شوٹ کیے گئے مواد کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایفلیک کو اس بات کی تشویش تھی کہ زیادہ تر ماڈلز ان کے ساتھیوں کے کام پر تربیت یافتہ تھے، اور وہ اس سے بے آرام محسوس کرتے تھے۔ اس کے بجائے، ایفلیک کی کمپنی ایسے اوپن ماڈلز استعمال کرتی ہے جو عوامی طور پر دستیاب فوٹیج پر مبنی ہوتے ہیں اور انہیں سینما کے کام کے لیے تربیت دیتی ہے۔ اس کے بعد فلم ساز اپنے کام کے دوران اپنی پروڈکشنز پر ان ٹولز کو مزید تربیت دے سکتے ہیں، جس سے ان کی فوٹیج کی ملکیت اور اس سے حاصل ہونے والا علم محفوظ رہتا ہے۔ یہ تو زبردست حل نکالا ہے انہوں نے۔
'Animals' میں AI کا جادو اور ہالی ووڈ کی رائے
ایفلیک نے واضح کیا کہ ان کی AI "لوگوں کو تبدیل کرنے" یا "ختم کرنے" کے لیے نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کبھی ایسا ہو گا کہ بس ٹائپ کریں اور لوگوں کی پسند کی فلم بن جائے۔ ان کے مطابق اس ساری کوشش کا مقصد کچھ اخلاقی کرنا تھا، ایسا جو لوگوں کو بے دخل نہ کرے بلکہ انہیں اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دے۔ اس سال جولائی میں نیٹ فلکس نے ایفلیک کی کمپنی InterPositive کو 587 ملین ڈالر میں خرید لیا۔ کما لیا بھئی خوب کمایا!
ایفلیک نے اپنی آنے والی فلم "Animals" میں بھی AI ٹول کو "بہت ساری چیزوں" کے لیے استعمال کیا ہے، زیادہ تر پوسٹ پروڈکشن کے دوران۔ تاہم، انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ بالکل کیسے استعمال کیا۔ "Animals" 9 اکتوبر کو نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی ہے۔ ایفلیک نے ہچکچاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "میں یہ بتانے یا اس کے بارے میں بات کرنے میں تھوڑا ہچکچا رہا ہوں کیونکہ، یار، میرے کام میں ہم حقیقت کا وہم پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہے نا؟" انہوں نے اس کا موازنہ ایک جادوگر سے کیا جو اپنی چال کی وضاحت کرے۔ اب یہ تو وہی بات ہوئی کہ بھئی جادو کا مزہ ہی اس کے راز میں ہے۔
ہالی ووڈ میں AI کا استعمال اب بھی گہری بحث کا موضوع ہے۔ جیمز کیمرون اور مارٹن اسکورسیزے جیسی کچھ شخصیات نے اسے تخلیقی آلے کے طور پر استعمال کرنے کی حمایت کی ہے، جبکہ گیلرمو ڈیل ٹورو اور کرسٹوفر نولن جیسے دیگر افراد نے ملازمتوں اور فنکارانہ کنٹرول پر اس کے ممکنہ اثرات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ دیکھتے ہیں یہ ٹیکنالوجی پاکستانی انڈسٹری میں کب تک ایسے ہی دھوم مچاتی ہے!
