وہاج علی کا 'بالا' والا سین: تھپڑ پڑے پر ہنسی نہ رکی!

وہاج علی نے 'مٹی دے باوے' میں 'بالا' بن کر تو دھمال ہی مچا دی! سوشل میڈیا پر ان کے پنجابی ڈائیلاگز اور 'جوجی' (مبشر محمود) کے ساتھ ان کی ہنسی مذاق والی کیمسٹری نے سچی میں لوگوں کو لچھاچھڑ کروا دیا ہے۔ ایک سین جو اب وائرل ہو گیا ہے، اس میں 'بالا' نے 'جوجی' کو تھپڑ مار مار کر نہ صرف خود ہنسایا بلکہ دیکھنے والوں کی بھی ہنسی نہیں رکنے دی!
ڈرامے میں وہاج 'اقبال چھنن' عرف 'بالا' کا جاندار کردار نبھا رہے ہیں، اور مبشر محمود ان کے ساتھ 'جوجی' کے روپ میں ہیں۔ سین کچھ یوں تھا: 'جوجی' اپنی دکان پر کام کر رہا ہوتا ہے جب ایک گاہک سے اس کی بحث چھڑ جاتی ہے اور بات ہاتھا پائی تک پہنچنے لگتی ہے۔ شور شرابہ سن کر 'بالا' وہاں پہنچتا ہے اور جھگڑا ختم کروانے کے لیے فوراً 'جوجی' کے گال پر ایک زوردار تھپڑ رسید کر دیتا ہے، ساتھ ہی کہتا ہے کہ گاہک سے معافی مانگے۔ اس کا خالص پنجابی لہجے میں 'پتر! کپڑے لین آیا اے، سلیقے نال معافی منگ!' کہنا، یقین کریں، لیول کی اداکاری تھی۔
مگر مزہ تو ابھی باقی تھا۔ جب حالات کچھ قابو میں آتے ہیں تو 'جوجی' اپنی دکھ بھری شکل لیے 'بالا' سے پوچھتا ہے کہ جھگڑا میرا تھا تو تھپڑ مجھے کیوں پڑا؟ 'بالا' جواب دینے کے بجائے ایک اور چانٹا رسید کر دیتا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ فضول کی جھگڑے نہ کیا کرے۔ یہ سین دیکھ کر تو ہماری ہنسی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ کیا مزاح تھا اور کیا ٹائمنگ!
ناظرین وہاج کے پنجابی لہجے، ایکسپریشنز اور بے مثال مزاحیہ ٹائمنگ کے دیوانے ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہر کوئی وہاج کی اداکاری کی تعریف کر رہا ہے کہ انہوں نے کردار میں ایسی جان ڈالی ہے کہ لگتا ہی نہیں اداکاری ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر کمنٹس میں سے ایک میں کہا گیا، "ہمارا ٹپیکل لاہوری لڑکا"، جبکہ ایک دوسرے نے اسے "پیک پنجابی رویہ" قرار دیا۔
'مٹی دے باوے' میں وہاج کا کردار 'بالا' ویسے بھی ڈرامے کا مرکزی حصہ ہے، جہاں محبت، تصادم، انتقام اور بدلتے رشتوں کی ایک بھرپور کہانی ہے۔ اس ڈرامے میں ماہرہ خان بھی 'بلقیس بانو' عرف 'بلو' کے کردار میں وہاج کے مقابل نظر آئیں گی۔ وہاج کے 'بالا' کی ادائی، خاص طور پر پنجابی لہجہ اور مزاحیہ ٹائمنگ، ڈرامے کے ابتدائی قسطوں میں ہی نمایاں ہو گئی ہے۔
