امر خان کا ’مٹی دے باوے‘ پر بڑا ردعمل: پاکستانی ٹی وی کی تاریخ کا سب سے غمگین ایپیسوڈ!

اداکارہ امر خان نے ڈرامے ’مٹی دے باوے‘ کی تازہ قسط پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس قسط کو پاکستانی ٹیلی ویژن کی تاریخ کا سب سے زیادہ ’ماتمی‘ اور تباہ کن ایپیسوڈ قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ڈرامے کی زبردست کہانی سنانے پر فخر کا بھی اظہار کیا۔
امر خان نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر ایک تفصیلی نوٹ شیئر کیا، جس میں انہوں نے قسط کی جذباتی شدت کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے دردناک واقعات نے انہیں سکتہ میں ڈال دیا اور وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس رات کوئی ایڈٹ یا ریویو ویڈیو شیئر نہیں کریں گی، کیونکہ وہ صرف اس قسط کے اثر میں رہنا چاہتی تھیں۔
امر خان نے لکھا، ”آج رات میں نے پاکستانی ٹیلی ویژن کی تاریخ کا سب سے ماتمی ایپیسوڈ دیکھا۔ اگرچہ مجھے اپنے ہی ڈرامے کی اس طرح تعریف کرتے ہوئے تھوڑا عجیب لگ رہا ہے۔ لیکن ایک ناظر کے طور پر بتاؤں تو میں اندر تک ہل کر رہ گئی ہوں اور میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ یہ بہت ہی شدید اور دل دہلا دینے والا تھا۔ آج رات کوئی ایڈٹ، کوئی ریویو ویڈیو پوسٹ نہیں کروں گی، کیونکہ میں صرف اس کے اثر میں رہنا چاہتی ہوں۔“
انہوں نے ڈائریکٹر وجاہت حسین سید، رائٹر فائزہ افتخار اور گرین انٹرٹینمنٹ کو ٹیگ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس سے بہتر انداز میں کبھی دکھ کو پیش نہیں کیا گیا۔ آخر میں انہوں نے دلی طور پر کہا، ”مجھے اس پر بہت فخر ہے۔“
اس قسط میں ایک تباہ کن موڑ آتا ہے جب اسلم، جسے اچی بھی کہتے ہیں، اور نوشین اپنے خاندان کے غصے سے بچنے کے لیے ٹرین کے ذریعے لاہور فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ریلوے اسٹیشن پر نظیر اور اس کے مسلح افراد ان کو روک لیتے ہیں۔ جب نوشین گھر واپس جانے سے انکار کرتی ہے اور اسلم کا ہاتھ تھامے رکھتی ہے، تو نظیر دونوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے۔
وہاج علی کا کردار بالا، جو ان دونوں کو بچانے کی امید میں پہنچتا ہے، اپنے چھوٹے بھائی کو اپنی باہوں میں مرتے دیکھ کر ٹوٹ جاتا ہے۔ غم اور غصے میں ڈوبا بالا، نظیر اور اس کے باقی آدمیوں کو گولی مار کر بدلہ لیتا ہے۔
یہ سانحہ اس وقت مزید گہرا ہوتا ہے جب اسلم کی لاش چنن خاندان کے گھر لائی جاتی ہے، جس سے جوجی، زرینہ (امر خان کا کردار) اور کوثر شدید دکھ میں ڈوب جاتے ہیں۔ ان کا غم اس تشدد کے جذباتی اثرات کو نمایاں کرتا ہے جس نے خاندان کو بکھیر دیا ہے۔
دریں اثنا، بااثر شاہ خاندان سے انتقام کے خوف سے، مقامی گینگ لیڈر پھجا (سہیل احمد کا کردار) جوجی کو حکم دیتا ہے کہ وہ باقی بچ جانے والے خاندان کے افراد کو ان کی حفاظت کے لیے لاہور منتقل کر دے۔ تاہم، وہ بالا کو اپنے بھائی کے جنازے میں شرکت سے روکتا ہے اور اسے چھپنے پر مجبور کرتا ہے۔ پھجا کا ارادہ ہے کہ وہ بالا کو ایک سال تک چھپائے رکھے گا، اس کے غم اور کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اسے ایک مجرم بنا دے گا۔ اپنی چونکا دینے والی ہلاکتوں، شدید اداکاری اور سنگین نتائج کے ذریعے، یہ قسط ’مٹی دے باوے‘ میں ایک اہم موڑ کا نشان ہے۔
یعنی آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ قسط دیکھ کر ہم سب کے بھی آنسو نکلنے والے ہیں؟
